Banner
Daily Sahafat Quetta
October 23, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
نامور ادیب و شاعر اور ‘سسٹم’ کے ایڈیٹر انچیف ناظم نواب سے بلوچستان رائٹرز گلڈ کے وفد کی اہم ملاقاتکمشنر پشین ڈویژن قائم لاشاری کا دورہ چمن، انتظامی امور میں بہتری، ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی، شہری منصوبہ بندی اور صحت عامہ کی سہولیات کا تفصیلی جائزہضلع حب کے عوام، صنعتوں اور زرعی شعبے کو پانی کی منصفانہ اور پائیدار فراہمی یقینی بنانے کے لیے مربوط اقدامات کریں،ڈپٹی کمشنر حب جمعہ داد خانچمن میں بلوچستان نارتھ، سندھ و بلوچستان باکسنگ چیمپئن شپ 2026ء کا انعقاد 28 سے 30 اکتوبر تک ہوگاTENDER NOTICE: DAB/AB NO.454/22-10-2026ورکنگ جرنلسٹ میڈیا گروپ کے دفتر کا افتتاح، حلف برداری کی تقریبقومی امن، ملکی سلامتی اور دفاعِ پاکستان کے لیے نئے عزم کے ساتھ میدانِ عمل میں اتریں گے، محمد اصغر خان کھوسوبحریہ ٹاؤن لاہور میں سیکیورٹی اہلکاروں کی مبینہ غنڈہ گردی، اوورسیز پاکستانی چوہدری کاشف عنایت آرائیں کے بچوں پر تشددسندھ میں پیدا ہوا، بلوچستان میں روشنی پھیلا رہا ہے – فرید بگٹی تحریر: محمد حنیف جمالیمیرپورخاص کے بجلی صارفین کے مسائل کے حل کے لیے ایم کیو ایم پاکستان متحرک، حیسکو حکام سے اہم ملاقاتنامور ادیب و شاعر اور ‘سسٹم’ کے ایڈیٹر انچیف ناظم نواب سے بلوچستان رائٹرز گلڈ کے وفد کی اہم ملاقاتکمشنر پشین ڈویژن قائم لاشاری کا دورہ چمن، انتظامی امور میں بہتری، ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی، شہری منصوبہ بندی اور صحت عامہ کی سہولیات کا تفصیلی جائزہضلع حب کے عوام، صنعتوں اور زرعی شعبے کو پانی کی منصفانہ اور پائیدار فراہمی یقینی بنانے کے لیے مربوط اقدامات کریں،ڈپٹی کمشنر حب جمعہ داد خانچمن میں بلوچستان نارتھ، سندھ و بلوچستان باکسنگ چیمپئن شپ 2026ء کا انعقاد 28 سے 30 اکتوبر تک ہوگاTENDER NOTICE: DAB/AB NO.454/22-10-2026ورکنگ جرنلسٹ میڈیا گروپ کے دفتر کا افتتاح، حلف برداری کی تقریبقومی امن، ملکی سلامتی اور دفاعِ پاکستان کے لیے نئے عزم کے ساتھ میدانِ عمل میں اتریں گے، محمد اصغر خان کھوسوبحریہ ٹاؤن لاہور میں سیکیورٹی اہلکاروں کی مبینہ غنڈہ گردی، اوورسیز پاکستانی چوہدری کاشف عنایت آرائیں کے بچوں پر تشددسندھ میں پیدا ہوا، بلوچستان میں روشنی پھیلا رہا ہے – فرید بگٹی تحریر: محمد حنیف جمالیمیرپورخاص کے بجلی صارفین کے مسائل کے حل کے لیے ایم کیو ایم پاکستان متحرک، حیسکو حکام سے اہم ملاقات

امریکہ ایران۔ وعدے کی پاسداری بہت اہم

امریکہ ایران۔ وعدے کی پاسداری بہت اہم

موجودہ صُورتِ حال یہ ہے وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کا کہنا ہے کہ ’جنگ بندی کے لیے کوئی حتمی مدت مقرر نہیں کی گئی ہے،کیرولین لیویٹ نے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے گزشتہ روز صدر ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کا حوالہ دیا اور کہا کہ امریکہ ایرانی قیادت کی جانب سے ایک متفقہ تجویز کا انتظار کر رہا ہے۔ ایران کی قیادت کے اندر ’تقسیم‘ پائی جاتی ہے، جنگ بندی کے دوران بھی ایران کے خلاف امریکی معاشی دباؤ جاری ہے جس میں امریکی بحری ناکہ بندی بھی شامل ہے جس نے ایرانی تیل کی برآمدات کو روک رکھا ہے۔ لیویٹ نے جنگ بندی میں تین سے پانچ دن کی توسیع سے متعلق خبروں کو ’غلط‘ قرار دیا۔
انکا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے کوئی ڈیڈ لائن مقرر نہیں کی وہ بحری ناکہ بندی سے ’مطمئن‘ ہیں اور ’سمجھتے ہیں کہ ایران اس وقت بہت کمزور پوزیشن میں ہے۔’اس وقت تمام اختیارات صدر ٹرمپ کے ہاتھ میں ہیں۔‘
کیرولین لیویٹ سے جب پوچھا گیا کہ کیا وائٹ ہاؤس کو معلوم ہے کہ ایران میں کسی معاہدے کی حتمی منظوری کون دے گا؟
تو اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’وائٹ ہاؤس اور ہماری انٹیلی جنس کمیونٹی کو یقیناً اس بارے میں بہتر معلومات ہیں۔‘تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ’ہم ایک متفقہ ردِعمل اور جواب کے منتظر ہیں۔‘ ایرانی قیادت کی جانب سے مختلف نوعیت کے بیانات سامنے آ رہے ہیں،‘ جنہں انہوں نے ’عوامی سطح پر بے معنی باتیں‘ قرار دیاہے۔
دوسری جانب ایران کے صدر کا کہنا ہے کہ امریکی ناکہ بندی، دھمکیاں اور وعدوں کی خلاف ورزی مذاکرات میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے مطابق ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی، دھمکیاں اور ان کے بقول ’وعدوں کی خلاف ورزی‘ امریکہ کے ساتھ ’حقیقی اور جامع مذاکرات‘ کی راہ میں بنیادی رکاوٹیں ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ایران نے مکالمے اور معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے اور اب بھی کرتا ہے۔‘دنیا آپ کی نہ ختم ہونے والی منافقانہ بیان بازی اور دعوؤں اور اقدامات کے درمیان تضاد کو دیکھ رہی ہے۔‘
ایرانی صدر کا یہ بیان اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا، تاہم ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی جاری رکھنے کا بھی اشارہ دیا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر اور پاکستان میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات کے پہلے دور میں ایرانی وفد کی قیادت کرنے والے محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ ’مکمل جنگ بندی اسی صورت میں بامعنی ہو سکتی ہے جب اسے سمندری ناکہ بندی اور ورلڈ اکانومی کو یرغمال بنانے جیسے اقدامات سے پامال نہ کیا جائے اور تمام محاذوں پر ’صیہونی جارحیت‘ کو روکا جائے اور وعدے کی پاسداری کی جائے۔ تو ایسی صریح خلاف ورزیوں کی موجودگی میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ممکن تو نہیں ہے نا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف کا یہ کہنا ہے کہ ’فوجی جارحیت کے ذریعے اپنے اہداف حاصل نہیں کیے جا سکے اور نہ ہی دھونس سے یہ ممکن ہوگا اور آگے بڑھنے کا واحد راستہ ایرانی قوم کے حقوق کو تسلیم کرنا ہے۔
لیکن یہاں مسلہ یہی ہے کہ جب کوئی بات سرے چڑھنے لگتی ہے تو ساتھ ہی امریکہ کی جانب سے کوئی نہ کوئی وعدہ خلافی ہو جاتی ہے۔ اور معاملہ بگڑ جاتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ وعدوں کی پاسداری کی جائے، وگرنہ ہرگز ہر گز مثبت نتائج حاصل نہیں ہو سکیں گے اور یہ معاملہ یونہی بیچ میں لٹکا رہے گا، بلکہ مزید خراب ہو گا۔ لہذا یہ بہت ضروری ہے کہ وعدوں کی پاسداری کی جائے، جو کہ بدقسمتی سے امریکہ نہیں کر رہا۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *