Banner
Daily Sahafat Quetta
October 3, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
TENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.1663/2-10-2026فیصل بینک صارف کے اکاؤنٹ سے تیسری بار چارجز کی وصولی پر سوالات اٹھ گئےسنگجانی جلسہ کیس؛ زرتاج گل اور عمر ایوب کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی ہدایتدہشتگردوں کی مالی معاونت؛ ملزمان کو 18، 18 سال قید، کروڑوں روپے جرمانےڈی جی آئی ایس پی آر آج شام اہم پریس کانفرنس کریں گےلورالائی میں صحت عامہ کا اہم اجلاس، بیماریوں کے خاتمے کیلئے مربوط حکمت عملی پر زورفکری یلغار سے ڈیجیٹل وار تکخیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی؟ آج اہم آئینی مشاورت متوقعملک میں کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا قانون موجود نہیں، پی ٹی اے کا عدالت میں جوابTENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.1663/2-10-2026فیصل بینک صارف کے اکاؤنٹ سے تیسری بار چارجز کی وصولی پر سوالات اٹھ گئےسنگجانی جلسہ کیس؛ زرتاج گل اور عمر ایوب کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی ہدایتدہشتگردوں کی مالی معاونت؛ ملزمان کو 18، 18 سال قید، کروڑوں روپے جرمانےڈی جی آئی ایس پی آر آج شام اہم پریس کانفرنس کریں گےلورالائی میں صحت عامہ کا اہم اجلاس، بیماریوں کے خاتمے کیلئے مربوط حکمت عملی پر زورفکری یلغار سے ڈیجیٹل وار تکخیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی؟ آج اہم آئینی مشاورت متوقعملک میں کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا قانون موجود نہیں، پی ٹی اے کا عدالت میں جواب

میڈم شمائلہ، فخر لسبیلہ یونیورسٹی

میڈم شمائلہ، فخر لسبیلہ یونیورسٹی

ایم اسلم گدور ڈان

گزشتہ روز روزنامہ انتخاب نیوزپیپر میں ایک خوش أئند خبر نظر کے سامنے سے گزری جس نے دل کو بے حد مسرور کر دیا۔ لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر، واٹر اینڈ میرین سائنسز اوتھل کے شعبہ عمرانیات سے وابستہ قابل فخر لیکچرار ڈاکٹر شمائلہ کمال نے جامعہ کراچی سے عمرانیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری کامیابی کے ساتھ حاصل کر لی ہے۔ یہ نہ صرف ان کی ذاتی محنت و لگن کا ثمر ہے بلکہ پورے أن کے علاقے و ہم شاگردوں کے لیے باعث فخر لمحہ بھی ہے۔
ڈاکٹر شمائلہ کمال صرف ایک استاد نہیں بلکہ ایک ایسا روشن چراغ ہیں جن کی روشنی علم کے ساتھ ساتھ کردار سازی تک پھیلی ہوئی ہے۔ مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے جب وہ پہلی بار ہماری کلاس میں داخل ہوئیں نہ کوئی رعب، نہ فاصلے، بلکہ ایک ایسا اپنائیت بھرا انداز کہ ہر طالب علم خود کو اہم محسوس کرنے لگا۔ تعارفی نشست کے ذریعے انہوں نے نہ صرف ہمیں جانا بلکہ ہمارے خیالات، ہماری سوچ اور ہماری سمجھ کو بھی پرکھا تعلیمی معلومات، روزمرہ معاملات کے دوران مشکل مرحلے میں صبر و أسانی سے سمجھنے و پھر حل کیلیے منصوبہ بندی، معاشرے کے نفسیاتی اذہان کو انفرادی طور پر سمجھنے و ان کے ساتھ خود کو ڈھالنے کے ٹوپک کو ٹچ کرکے پھر کلاس کے نصابی سلسلے کو شروع کیا اور پھر وہیں سے اصل تدریس کا آغاز ہوا۔ ان کا اندازِ تدریس محض کتابی نہیں تھا، بلکہ زندگی سے جڑا ہوا تھا۔ وہ سوشیالوجی کو صرف ایک مضمون نہیں بلکہ معاشرے کو سمجھنے کی ایک کھڑکی بنا دیتی تھیں۔ پیچیدہ نظریات کو اس سادگی اور خوبصورتی سے بیان کرتیں کہ مشکل سے مشکل بات بھی ذہن میں نقش ہو جاتی۔ ہر طالب علم کے ذہن تک رسائی، اس کے خیالات کو سمجھنا اور پھر اسی کے مطابق پڑھانا یہ وہ ہنر ہے جو ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوتا، اور یہی چیز انہیں ایک عام استاد سے ممتاز بناتی ہے سچ کہوں تو ان کی کلاس کے بعد کئی بار دل میں یہ خیال آیا کہ شاید میرا اصل شعبہ یہی ہونا چاہیے تھا کیونکہ جس دلچسپی، خلوص اور فہم کے ساتھ انہوں نے پڑھایا، وہ صرف علم نہیں بلکہ ایک احساس تھا۔ آج ان کی یہ کامیابی ہم سب کے لیے خوشی کا باعث ہے۔ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر شمائلہ کمال صاحبہ کو مزید کامیابیاں عطا فرمائے، ان کے علم میں برکت دے، اور انہیں اسی طرح نسلوں کی رہنمائی کرنے کی توفیق دے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *