Banner
Daily Sahafat Quetta
November 9, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
نئی پیکنگ میں جھوٹے وعدےجے یو آئی بلوچستان مولانا کے سنگ ۔بی آئی ایس پی کی مالی معاونت خیرات نہیں بلکہ مستحق خاندانوں کا حق ہے، روبینہ خالد23ویں ایشین ٹیم اسکواش چیمپئن شپ کا اختتام، پاکستان اور ہانگ کانگ نے بالترتیب مردوں اور خواتین کے ٹائٹلز اپنے نام کر لیےپشین : کوئٹہ : پشین چیمبر ( PCCI ) ( REAP ) اور ( FPCCI ) کے عہدادران کی ایرانی قونصل جنرل بلوچستان عبدالکریم کی والدہ کے انتقال پر تعزیت اور فاتحہ خوانیپشین : کوئٹہ : پشین چیمبر ( PCCI ) ( REAP ) اور ( FPCCI ) کے عہدادران کی ایرانی قونصل جنرل بلوچستان عبدالکریم کی والدہ کے انتقال پر تعزیت اور فاتحہ خوانیایرانی قونصل جنرل عبدالکریم کی والدہ کے انتقال پر محمد آصف خان ترین کا اظہارِ تعزیت23ویں ایشین ٹیم اسکواش چیمپئن شپ کا اختتام، پاکستان اور ہانگ کانگ نے بالترتیب مردوں اور خواتین کے ٹائٹلز اپنے نام کر لیےکوہلو میں سی آئی اے پولیس کی کارروائی، مختلف دفعات کے تحت مطلوب مفرور ملزم گرفتارعلامہ اقبال کا پیغامِ خودی اور فکر نوجوان نسل کے لیے مشعلِ راہ ہے، نور محمد دمڑنئی پیکنگ میں جھوٹے وعدےجے یو آئی بلوچستان مولانا کے سنگ ۔بی آئی ایس پی کی مالی معاونت خیرات نہیں بلکہ مستحق خاندانوں کا حق ہے، روبینہ خالد23ویں ایشین ٹیم اسکواش چیمپئن شپ کا اختتام، پاکستان اور ہانگ کانگ نے بالترتیب مردوں اور خواتین کے ٹائٹلز اپنے نام کر لیےپشین : کوئٹہ : پشین چیمبر ( PCCI ) ( REAP ) اور ( FPCCI ) کے عہدادران کی ایرانی قونصل جنرل بلوچستان عبدالکریم کی والدہ کے انتقال پر تعزیت اور فاتحہ خوانیپشین : کوئٹہ : پشین چیمبر ( PCCI ) ( REAP ) اور ( FPCCI ) کے عہدادران کی ایرانی قونصل جنرل بلوچستان عبدالکریم کی والدہ کے انتقال پر تعزیت اور فاتحہ خوانیایرانی قونصل جنرل عبدالکریم کی والدہ کے انتقال پر محمد آصف خان ترین کا اظہارِ تعزیت23ویں ایشین ٹیم اسکواش چیمپئن شپ کا اختتام، پاکستان اور ہانگ کانگ نے بالترتیب مردوں اور خواتین کے ٹائٹلز اپنے نام کر لیےکوہلو میں سی آئی اے پولیس کی کارروائی، مختلف دفعات کے تحت مطلوب مفرور ملزم گرفتارعلامہ اقبال کا پیغامِ خودی اور فکر نوجوان نسل کے لیے مشعلِ راہ ہے، نور محمد دمڑ

نئی پیکنگ میں جھوٹے وعدے

تحریر۔۔ ایس ایم مرموی

نئی پیکنگ میں عوامی وعدے مگر اندر وہی پرانی کہانی یہ جملہ آج کی سیاسی حقیقت کا مختصر مگر کڑوا خلاصہ ہے انتخابی موسم میں مفت بجلی مفت سولر، مفت تعلیم اور خوش حالی کے نئے خواب دکھائے جاتے ہیں مگر اقتدار میں آنے کے بعد وہی پرانی کہانی سامنے آتی ہے مجبوریاں، وضاحتیں اور عوام کے وہی مسائل مہنگائی، غربت، بے روزگاری، علاج اور تعلیم سوال وہیں کا وہیں کھڑا رہتا ہے۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ترقی کے دعوے کیے جاتے ہیں مسئلہ یہ ہے کہ ترقی کی تعریف ہی غلط کر دی گئی ہے بلند عمارتیں،چمکتی سڑکیں، مہنگی گاڑیاں شاہانہ دورے اور پروٹوکول کے قافلے ملنگے جہاز ترقی کی علامت قرار پاتے ہیں جبکہ عام آدمی کی روٹی، علاج، تعلیم روزگار اور عزت ثانوی ہو جاتی ہےحالانکہ ترقی کا اصل پیمانہ یہی ہے کہ مزدور کی محنت کا پورا صلہ ملے بیمار کو علاج میسر ہو بچے کی تعلیم والدین کی جیب کی محتاج نہ ہو نوجوان کو روزگار ملے اور ہر شہری باعزت زندگی گزار سکے۔
سڑکیں، پل، اسپتال اور اسکول ریاست کی ضرورت ہیں مگر ان کی اہمیت تب ہے جب ان سے عام آدمی کی زندگی آسان ہو اگر عمارتیں بنیں مگر سرکاری اسپتال میں دوا نہ ہو اسکول ہوں مگر معیاری تعلیم صرف امیر طبقے تک پہنچے اور منصوبے بنیں مگر غریب کے لیے روزگار نہ پیدا ہو تو تعمیرات کا حساب تو دیا جا سکتا ہے انسانی ترقی کا دعویٰ نہیں۔
دوسرا بڑا مسئلہ وعدوں کی سیاست ہے وعدہ کرنا آسان ہے مگر اس کی قیمت ادا کرنا مشکل مفت بجلی کے تین سو یونٹ یا مفت سولر کے اعلانات کے ساتھ یہ بتانا لازم ہے کہ پیسہ کہاں سے آئے گا مستحق کون ہوگا عمل درآمد کون کرے گا نتیجہ کیسے ناپا جائے گا اور ناکامی پر جواب دہ کون ہوگا بجٹ، ٹائم لائن اور واضح ذمہ داری کے بغیر وعدہ نعرہ رہتا ہے پالیسی نہیں بنتا۔
جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں ووٹ کے بعد منتخب نمائندوں سے جواب طلب کرنا بھی جمہوری عمل کا حصہ ہے عوام کو پوچھنے کا حق ہے کہ ٹیکس کا پیسہ کہاں خرچ ہوا؟ مہنگائی کم کرنے کے لیے کیا کیا؟ روزگار تعلیم اور صحت میں کیا بہتری آئی؟ کتنے وعدے پورے ہوئے اور جو نہیں ہوئے، ان کی وجوہات کیا ہیں؟ یہ سوال مخالفت نہیں شہری ذمہ داری ہے۔
عوام کی ذمہ داری بھی ہے کہ ووٹ سوچ سمجھ کر دیں وعدوں اور نتائج کا ریکارڈ رکھیں مقامی نمائندوں سے جواب طلب کریں اور اختلاف کو نفرت نہیں دلیل اور آئینی جدوجہد کا ذریعہ بنائیں حکمرانوں کو بھی سمجھنا چاہیے کہ عوام کی خاموشی ہمیشہ اطمینان کی علامت نہیں ہوتی آخر میں ترقی کا اصل پیمانہ حکمرانوں کے جہازوں کی بلندی نہیں، عوام کے معیارِ زندگی کی بلندی ہے یہ بلندی نعروں سے نہیں شفاف فیصلوں، منصفانہ ترجیحات قابلِ پیمائش وعدوں اور مسلسل جواب دہی سے حاصل ہوگی نئی پیکنگ میں پرانے وعدے نہیں، اب عملی تکمیل چاہیے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *