Banner
Daily Sahafat Quetta
October 22, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
بازار میں تجاوزات کے خلاف کامیاب آپریشن سے ٹریفک کی روانی بہتر اور عوام کو سہولت میسر آئی ہے، سردار محمد آصف خان سرگڑھسیاسی اختلاف کا جواب کردار کشی سے دینا دلیل کی کمزوری اور سیاسی دیوالیہ پن ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقخضدار کی مجموعی ترقی، تعلیم اور کھیلوں کے فروغ کو ترجیحات میں شامل رکھیں گے،میر یونس عزیز زہریعوامی مسائل کا فوری حل اور شہریوں کو انصاف کی فراہمی پولیس کی اولین ترجیح ہے ، ڈی ایس پی قائدآباد مقصود لغاریطلبہ کی کردار سازی اور تعلیمی اداروں میں مثبت اقدار کی ترویج سے بدعنوانی سے پاک معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے ، ڈائریکٹر نیب بلوچستان محمد سلیم احمدبلوچستان کے نوجوانوں اور خواتین کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہنر فراہم کرنا پائیدار معاشی ترقی کی بنیاد ہے ،ربابہ خان بلیدیبلوچستان ریونیو اتھارٹی صوبے کی آمدن کا اہم ذریعہ ہے ، شعیب نوشیروانیکھیل اور تخلیقی سرگرمیاں معیاری تعلیم و تربیت کا لازمی حصہ ہیں ، گورنر بلوچستانانتظامیہ عوامی خدمت اور شہریوں کے مسائل کے فوری حل کے لیے پرعزم ہے ، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینیکوئٹہ میں خسرے کے کیسز کے تناظر میں حفاظتی ٹیکوں کی کوریج بڑھانا ناگزیر ہے،کمشنر کوئٹہ ڈویشن ذیشان لاشاریبازار میں تجاوزات کے خلاف کامیاب آپریشن سے ٹریفک کی روانی بہتر اور عوام کو سہولت میسر آئی ہے، سردار محمد آصف خان سرگڑھسیاسی اختلاف کا جواب کردار کشی سے دینا دلیل کی کمزوری اور سیاسی دیوالیہ پن ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقخضدار کی مجموعی ترقی، تعلیم اور کھیلوں کے فروغ کو ترجیحات میں شامل رکھیں گے،میر یونس عزیز زہریعوامی مسائل کا فوری حل اور شہریوں کو انصاف کی فراہمی پولیس کی اولین ترجیح ہے ، ڈی ایس پی قائدآباد مقصود لغاریطلبہ کی کردار سازی اور تعلیمی اداروں میں مثبت اقدار کی ترویج سے بدعنوانی سے پاک معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے ، ڈائریکٹر نیب بلوچستان محمد سلیم احمدبلوچستان کے نوجوانوں اور خواتین کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہنر فراہم کرنا پائیدار معاشی ترقی کی بنیاد ہے ،ربابہ خان بلیدیبلوچستان ریونیو اتھارٹی صوبے کی آمدن کا اہم ذریعہ ہے ، شعیب نوشیروانیکھیل اور تخلیقی سرگرمیاں معیاری تعلیم و تربیت کا لازمی حصہ ہیں ، گورنر بلوچستانانتظامیہ عوامی خدمت اور شہریوں کے مسائل کے فوری حل کے لیے پرعزم ہے ، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینیکوئٹہ میں خسرے کے کیسز کے تناظر میں حفاظتی ٹیکوں کی کوریج بڑھانا ناگزیر ہے،کمشنر کوئٹہ ڈویشن ذیشان لاشاری

وزیراعلیٰ سندھ میرا وجود تسلیم کرنے کو تیار نہیں، میں انہیں کیسے مان لوں، مصطفیٰ کمال

اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ سندھ اور پاکستان کے مسائل کا حل چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام میں ہے، موجودہ نظام میں وسائل عوام تک نہیں پہنچ رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب وزیراعلیٰ سندھ میرا وجود تسلیم کرنے کو تیار نہیں تو میں انہیں کیسے تسلیم کروں؟

پمز میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے خیبر پختونخوا کی صورتحال پر تنقید کی اور کہا کہ وہاں پیش آنے والے حالات کے ذمہ دار وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ہیں۔ انہوں نے پی ٹی آئی رہنماؤں سے اپیل کی کہ ریاست مخالف رویہ اختیار نہ کریں، اختلافات اور اعتراضات اپنی جگہ، لیکن ریاست کو تباہ نہیں کیا جاتا۔

وفاقی وزیر صحت نے کراچی کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا ترقی کر رہی ہے، لیکن کراچی میں لوگ کتے کے کاٹنے سے جانیں گنوا رہے ہیں۔ ان کے مطابق شہر کے 80 فیصد گھروں میں پینے کا پانی دستیاب نہیں، ڈیفنس سے کچی آبادیوں تک پانی کی قلت ہے، جبکہ بجلی اور گیس کی فراہمی کے مسائل بھی برقرار ہیں۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ یونیورسٹی روڈ سات سال سے خراب ہے، جس کے باعث پانچ سے سات لاکھ افراد کا کاروبار متاثر ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے تقریباً 70 فیصد ریونیو میں حصہ ڈالنے والے شہر میں بچے گٹروں میں گر کر جانیں گنوا رہے ہیں، جبکہ موبائل فون چھیننے کے واقعات میں نوجوانوں کی جانیں بھی خطرے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے مسائل دیکھ کر انہیں دکھ ہوتا ہے، اور اگر شہری مسائل حل ہوتے نظر آئیں تو وہ صوبائی حکومت کی حمایت کریں گے۔

مردم شماری کے اعداد و شمار پر تنقید کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ 2017 کی مردم شماری میں کراچی کی آبادی ایک کروڑ 60 لاکھ، جبکہ 2023 کی مردم شماری میں ایک کروڑ 30 لاکھ ظاہر کی گئی۔ ان کے مطابق مردم شماری میں چار مرتبہ توسیع کے بعد کراچی کی آبادی میں مزید 73 لاکھ افراد سامنے آئے اور سرکاری اعداد و شمار میں یہ تعداد دو کروڑ تین لاکھ تک پہنچی۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ قابلِ تقسیم محاصل میں سے 57.5 فیصد صوبوں کو دیا جاتا ہے اور رواں سال صوبوں کو 8 ہزار 884 ارب روپے فراہم کیے گئے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ سندھ کو گزشتہ 17 برس میں 22 ہزار ارب روپے ملے، لیکن اس کے باوجود بنیادی مسائل حل نہیں ہوسکے۔

انہوں نے کہا کہ اندرون سندھ بعض خواتین کو پانی حاصل کرنے کے لیے 12، 12 کلومیٹر سفر کرنا پڑتا ہے۔ ان کے بقول چھوٹے انتظامی یونٹس قائم کرنے سے وسائل کی تقسیم بہتر بنائی جاسکتی ہے اور عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

وفاقی وزیر صحت نے مزید بتایا کہ پولی کلینک ٹو ایک سال میں مکمل ہوجائے گا، جہاں فائر سیفٹی سمیت دیگر ضروری انتظامات بھی کیے جائیں گے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *