Banner
Daily Sahafat Quetta
October 23, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
تبت میں 7 شدت کا ہولناک زلزلہ، جنوری 2024 کے بعد چین کا سب سے بڑا زلزلہ؛ 16 افراد ہلاک، ایمرج نافذفورسز کے ساتھ نہ کھڑی ہونے والی ہر سیاسی جماعت مائنس ہوجائے گی، رانا ثنا اللہدہشت گرد جہاں بھی موجود ہوں گے، انہیں سخت جواب دیا جائے گا، فیلڈ مارشلبلوچستان کی تعمیر و ترقی اور عوام کے روشن مستقبل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ، وزیراعلیٰ بلوچستانپیپلز پارٹی سکھر کے نائب صدر میر دادن خان کلجی کی تعزیتی ملاقاتیں، غمزدہ خاندانوں سے اظہارِ افسوسجامعہ لورالائی کے دفتر برائے تحقیق، جدت اور تجارتی سرگرمیوں کو ایچ ای سی کی باضابطہ منظوری، جامعہ میں خوشی کی تقریب کا انعقادوہ شہر جہاں مرنا قانونی طور پر منع ہےپاکستان کی بیرونی مالیاتی پوزیشن کمزور ہونے کا خدشہ، آئی ایم ایفٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ حملے کا عندیہ دے دیااستنبول میں پاکستان سمیت 7 ممالک کی اہم سفارتی بیٹھک، اسحاق ڈار شرکت کریں گےتبت میں 7 شدت کا ہولناک زلزلہ، جنوری 2024 کے بعد چین کا سب سے بڑا زلزلہ؛ 16 افراد ہلاک، ایمرج نافذفورسز کے ساتھ نہ کھڑی ہونے والی ہر سیاسی جماعت مائنس ہوجائے گی، رانا ثنا اللہدہشت گرد جہاں بھی موجود ہوں گے، انہیں سخت جواب دیا جائے گا، فیلڈ مارشلبلوچستان کی تعمیر و ترقی اور عوام کے روشن مستقبل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ، وزیراعلیٰ بلوچستانپیپلز پارٹی سکھر کے نائب صدر میر دادن خان کلجی کی تعزیتی ملاقاتیں، غمزدہ خاندانوں سے اظہارِ افسوسجامعہ لورالائی کے دفتر برائے تحقیق، جدت اور تجارتی سرگرمیوں کو ایچ ای سی کی باضابطہ منظوری، جامعہ میں خوشی کی تقریب کا انعقادوہ شہر جہاں مرنا قانونی طور پر منع ہےپاکستان کی بیرونی مالیاتی پوزیشن کمزور ہونے کا خدشہ، آئی ایم ایفٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ حملے کا عندیہ دے دیااستنبول میں پاکستان سمیت 7 ممالک کی اہم سفارتی بیٹھک، اسحاق ڈار شرکت کریں گے

منڈی مدرسہ میں دکانداروں کی مبینہ من مانی، اشیائے ضروریہ سرکاری نرخوں سے مہنگی فروخت ہونے کی شکایات

منڈی مدرسہ(عبدالقادر فاروقی) منڈی مدرسہ میں دوکانداروں نے مرضی کے نرخ نافذ کردئیے، عوام پریشان ، انتظامیہ ٹھنڈے دفاتر تک محدود ۔ اصلاح احوال کا مطالبہ۔
منڈی مدرسہ میں مہنگائی نے غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ فروٹ، سبزی، دودھ، دہی اور ایل پی جی سمیت روزمرہ استعمال کی اشیاء مبینہ طور پر سرکاری نرخ ناموں سے زائد قیمتوں پر فروخت ہونے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں، جس کے باعث شہری شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ ایک طرف بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل بنا دیا ہے تو دوسری جانب اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر سرکاری نرخ ناموں کے مطابق عمل درآمد نہ ہونے کے الزامات نے انتظامی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر سرکاری نرخ نامے جاری کیے جاتے ہیں تو پھر بازاروں میں ان پر عمل درآمد کیوں یقینی نہیں بنایا جا رہا ہے شہریوں کا کہنا ہے یہ انتظامیہ کی مبینہ غفلت ہے یا نگرانی کا فقدان؟ شہریوں کی جانب سے متعلقہ حکام سے سوال کیا جا رہا ہے کہ قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور ناجائز منافع خوری روکنے کی ذمہ داری کس کی ہے؟ اگر دکاندار سرکاری نرخوں سے زائد قیمتیں وصول کر رہے ہیں تو ان کے خلاف مؤثر کارروائی کیوں نظر نہیں آتی۔ شہریوں نے ڈپٹی کمشنر بہاولنگر اور متعلقہ پرائس کنٹرول حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بازاروں میں فوری اور مؤثر چیکنگ کی جائے، سرکاری نرخ نامے نمایاں مقامات پر آویزاں کروائے جائیں، خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور عوام کو مقررہ نرخوں پر اشیائے ضروریہ کی فراہمی یقینی بنائی جائے ۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *