Banner
Daily Sahafat Quetta
October 23, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
پاکستان کی بیرونی مالیاتی پوزیشن کمزور ہونے کا خدشہ، آئی ایم ایفٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ حملے کا عندیہ دے دیااستنبول میں پاکستان سمیت 7 ممالک کی اہم سفارتی بیٹھک، اسحاق ڈار شرکت کریں گےدالبندین اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 5.1 ریکارڈنامور ادیب و شاعر اور ‘سسٹم’ کے ایڈیٹر انچیف ناظم نواب سے بلوچستان رائٹرز گلڈ کے وفد کی اہم ملاقاتکمشنر پشین ڈویژن قائم لاشاری کا دورہ چمن، انتظامی امور میں بہتری، ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی، شہری منصوبہ بندی اور صحت عامہ کی سہولیات کا تفصیلی جائزہضلع حب کے عوام، صنعتوں اور زرعی شعبے کو پانی کی منصفانہ اور پائیدار فراہمی یقینی بنانے کے لیے مربوط اقدامات کریں،ڈپٹی کمشنر حب جمعہ داد خانچمن میں بلوچستان نارتھ، سندھ و بلوچستان باکسنگ چیمپئن شپ 2026ء کا انعقاد 28 سے 30 اکتوبر تک ہوگاTENDER NOTICE: DAB/AB NO.454/22-10-2026ورکنگ جرنلسٹ میڈیا گروپ کے دفتر کا افتتاح، حلف برداری کی تقریبپاکستان کی بیرونی مالیاتی پوزیشن کمزور ہونے کا خدشہ، آئی ایم ایفٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ حملے کا عندیہ دے دیااستنبول میں پاکستان سمیت 7 ممالک کی اہم سفارتی بیٹھک، اسحاق ڈار شرکت کریں گےدالبندین اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 5.1 ریکارڈنامور ادیب و شاعر اور ‘سسٹم’ کے ایڈیٹر انچیف ناظم نواب سے بلوچستان رائٹرز گلڈ کے وفد کی اہم ملاقاتکمشنر پشین ڈویژن قائم لاشاری کا دورہ چمن، انتظامی امور میں بہتری، ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی، شہری منصوبہ بندی اور صحت عامہ کی سہولیات کا تفصیلی جائزہضلع حب کے عوام، صنعتوں اور زرعی شعبے کو پانی کی منصفانہ اور پائیدار فراہمی یقینی بنانے کے لیے مربوط اقدامات کریں،ڈپٹی کمشنر حب جمعہ داد خانچمن میں بلوچستان نارتھ، سندھ و بلوچستان باکسنگ چیمپئن شپ 2026ء کا انعقاد 28 سے 30 اکتوبر تک ہوگاTENDER NOTICE: DAB/AB NO.454/22-10-2026ورکنگ جرنلسٹ میڈیا گروپ کے دفتر کا افتتاح، حلف برداری کی تقریب

نظریہ غریبوں کے لیے مغرب امیروں کے لیے؟

نظریہ غریبوں کے لیے مغرب امیروں کے لیے؟
کالم نگار: ایس ایم مرموی

کسی بھی ریاست کی بنیاد محض جغرافیے پر نہیں رکھی جاتی اس کے پیچھے ایک نظریہ ایک اجتماعی خواب کچھ وعدے اور ایک بہتر مستقبل کی امید ہوتی ہے پاکستان بھی ایک نظریاتی جدوجہد کے نتیجے میں معرضِ وجود میں آیا اس کے قیام کے وقت مسلمانوں کو ایک ایسی ریاست کا خواب دکھایا گیا جہاں وہ اپنی تہذیبی شناخت، مذہبی آزادی، معاشرتی اقدار اور اجتماعی حقوق کے ساتھ زندگی گزار سکیں یہ خواب صرف ایک خطۂ زمین حاصل کرنے کا نہیں تھا بلکہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینے کا تھا جہاں انصاف ہو انسانی وقار محفوظ ہو اور کسی شہری کی قسمت کا فیصلہ اس کی دولت، خاندان یا طبقاتی حیثیت سے نہ کیا جائے لیکن سوال یہ ہے کہ قیامِ پاکستان کے کئی عشروں بعد ہم اس خواب کی تعبیر کہاں تلاش کریں؟ کیا نظریاتی ریاست کا تصور صرف تقریروں نصابی کتابوں، سیاسی جلسوں اور قومی دنوں کی تقاریر تک محدود ہو کر رہ گیا ہے؟ کیا نظریے کی حفاظت کا مطلب صرف غریب عوام سے قربانی مانگنا ہے؟ اور اگر یہ سرزمین واقعی اتنی مقدس اتنی عظیم اور اتنی ضروری ہے تو پھر اس کے مستقبل پر سب سے زیادہ اعتماد ان لوگوں کو کیوں نہیں جو اس کے نظریاتی تحفظ کے سب سے بڑے دعوے دار ہیں؟
یہ سوالات کسی دشمن کے نہیں اسی معاشرے کے ایک عام شہری کے ہیں جسے وطن سے محبت کا درس بھی دیا جاتا ہے اور وطن کے مسائل کا بوجھ اٹھانے کی ذمہ داری بھی اسی کے کندھوں پر ڈال دی جاتی ہے ذرا اس تضاد پر غور کیجیے۔
جب غریب کا بچہ تعلیم روزگار اور بہتر مستقبل کے لیے بیرونِ ملک جانے کا خواب دیکھتا ہے تو اسے اپنے وطن کی خدمت کرنے اپنی مٹی سے وفادار رہنے اور اپنے نظریے پر قائم رہنے کی نصیحت کی جاتی ہے اسے بتایا جاتا ہے کہ اصل کامیابی اپنے ملک میں رہ کر جدوجہد کرنے میں ہے اسے اپنی تہذیب اپنی ثقافت اور اپنی مذہبی شناخت کی حفاظت کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہےلیکن جب یہی سوال ملک کے صاحبِ اختیار صاحبِ ثروت اور صاحبِ اقتدار طبقے کے سامنے آتا ہے تو منظر بدل جاتا ہے ان کے بچوں کے لیے بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم کے دروازے کھلے ہوتے ہیں ان کے لیے دوسرے ملکوں میں کاروبار، جائیداد شہریت اور مستقل رہائش کے امکانات موجود ہوتے ہیں ان کے مستقبل کی منصوبہ بندی میں سرحدیں رکاوٹ نہیں بنتیں وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں رہنے پڑھنے اور کام کرنے کو اپنے بچوں کا حق سمجھتے ہیں ان کےلئے وطن کی محبت کا درس نہیں ہوتا ہے ۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر مغربی معاشرے ہماری نظریاتی شناخت کے لیے اتنا بڑا خطرہ ہیں تو پھر ہماری اشرافیہ اپنی اگلی نسلوں کے لیے انہی معاشروں کو ترجیح کیوں دیتی ہے؟ اگر مغرب کی تہذیب ہماری اقدار کے لیے خطرہ ہے تو پھر اپنے بچوں کے لیے وہاں کی تعلیم وہاں کا نظام اور وہاں کا مستقبل منتخب کرتے وقت یہ خطرہ اچانک غیر اہم کیسے ہو جاتا ہے؟ کیا نظریاتی خطرات بھی طبقہ دیکھ کر اپنا رویہ بدل لیتے ہیں یا پھر اصل مسئلہ مغرب نہیں بلکہ وہ طبقاتی تقسیم ہے جس کے تحت ایک ہی معاشرے میں رہنے والے لوگوں کے لیے اصول الگ الگ ہو جاتے ہیں؟
یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی مغربی ملک میں تعلیم حاصل کرنا وہاں ملازمت کرنا یا مستقل سکونت اختیار کرنا بذاتِ خود کوئی جرم نہیں دنیا آج ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے علم، روزگار اور بہتر زندگی کی تلاش انسانی حق ہے کوئی شخص اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے بیرونِ ملک جانے کا فیصلہ کرتا ہے تو اسکے فیصلے کو محض اس بنیاد پر غلط قرار نہیں دیا جا سکتا اصل اعتراض وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں دوسروں کو ایک مخصوص نظریے تہذیب اور طرزِ زندگی کا پابند بنایا جائے لیکن اپنے لیے انہی پابندیوں سے استثنا حاصل کر لیا جائے جہاں غریب کے بچے کو وطن چھوڑنے پر غیرت اور وفاداری کے لیکچر دیے جائیں لیکن امیر کے بچے کا بیرونِ ملک مستقل آباد ہونا کامیابی ذہانت اور مستقبل کی دانش مندانہ منصوبہ بندی قرار پائے یہی وہ مقام ہے جہاں نظریہ اپنی اخلاقی ساکھ کھونے لگتا ہے کیون کہ کسی بھی اصول کی حقیقی طاقت اس کے الفاظ میں نہیں اس کے یکساں اطلاق میں ہوتی ہے۔
دو قومی نظریہ برصغیر کے مسلمانوں کی جداگانہ مذہبی، تہذیبی اور سیاسی شناخت سے جڑا ہوا تاریخی تصور ہے پاکستان اسی جدوجہد کے نتیجے میں وجود میں آیا اس تاریخی حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن کسی نظریے کی تاریخی اہمیت اپنی جگہ اور اس کے نام پر قائم معاشرے کی عملی کارکردگی اپنی جگہ کیا نظریے کی حفاظت کا تقاضا صرف یہ ہے کہ غریب شہری اپنی زندگی کے ہر شعبے میں پابندیوں کو قبول کرے کیا اس کا تقاضا یہ نہیں کہ ریاست اسے معیاری تعلیم، باعزت روزگار، انصاف، تحفظ اور ترقی کے مساوی مواقع بھی فراہم کرے اگر ایک نوجوان اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد روزگار کے لیے در در کی ٹھوکریں کھاتا ہے اگر ایک باصلاحیت شخص سفارش کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا اگر ایک مزدور دن رات محنت کرنے کے باوجود اپنے بچوں کی بنیادی ضروریات پوری نہیں کر پاتا تو اسے صرف نظریاتی وابستگی کا درس دینا کافی نہیں وطن سے محبت ایک جذبہ ضرور ہے لیکن ریاست کی ذمہ داری اس جذبے کو زندہ رکھنے کے لیے عملی بنیادیں فراہم کرنا بھی ہے۔
ایک شہری ریاست سے وفاداری کی توقع رکھتا ہے تو وہ ریاست سے انصاف تحفظ اور مواقع کی توقع بھی رکھتا ہے یہ تعلق یک طرفہ نہیں ہو سکتا ریاست شہری سے قربانی مانگے اور بدلے میں اسے محرومی دے شہری سے وفاداری کا مطالبہ کرے اور اسے بنیادی حقوق سے محروم رکھے شہری کو وطن کی عظمت یاد دلائے لیکن اس کی اپنی زندگی کو بے وقعت بنا دے تو پھر مسئلہ شہری کی حب الوطنی میں نہیں ریاستی ترجیحات میں تلاش کیا جانا چاہیے ہمارے معاشرے میں طبقاتی فرق صرف دولت تک محدود نہیں رہا یہ فرق تعلیم، صحت، انصاف، روزگار اور مستقبل کے انتخاب تک پھیل چکا ہے۔
ایک غریب خاندان اپنے بچے کی تعلیم کے لیے قرض لیتا ہے وہ اپنی ضروریات کم کرتا ہے اپنے خواب مؤخر کرتا ہے اور اس امید پر محنت کرتا ہے کہ شاید اس کی اگلی نسل اس سے بہتر زندگی گزار سکے لیکن جب تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی روزگار کے دروازے بند رہتے ہیں تو یہی نوجوان بیرونِ ملک جانے کے لیے مجبور ہوتا ہے وہ اپنا گھر اپنے والدین اور اپنی مٹی چھوڑتا ہے پردیس میں محنت کرتا ہے اپنے خاندان کو پیسے بھیجتا ہے اور اپنے وطن کے لیے زرمبادلہ کماتا ہے اس کی محنت سے گھر چلتے ہیں بچوں کی فیسیں ادا ہوتی ہیں اور بیمار والدین کا علاج ہوتا ہے اس کے باوجود وطن سے محبت کے دعووں میں اس کا حصہ اکثر صرف قربانی تک محدود رہتا ہے دوسری طرف معاشرے کا ایک بااثر طبقہ اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے زیادہ محفوظ اور بہتر مواقع تلاش کرتا ہے اس میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ وہ دوسروں کے لیے بھی وہی مواقع پیدا کرنے کی فکر کرے مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اختیارات اور وسائل پر قابض طبقہ اپنے لیے دنیا بھر کے امکانات کھلے رکھے مگر عام شہری کو اس کی محرومیوں پر صبر اور نظریاتی وابستگی کے وعظ سنائے یہ کیسی قومی یکجہتی ہے جس میں قربانی کا بوجھ نیچے والوں پر اور انتخاب کا اختیار اوپر والوں کے پاس ہو ہمیں ایک بنیادی سوال کا جواب تلاش کرنا ہوگا کیا کسی دوسرے معاشرے پر تنقید کرنا آسان ہے، یا اپنے معاشرے کی خامیوں کو دور کرنا مغربی معاشروں میں بھی مسائل ہیں وہاں بھی معاشی ناہمواری، امتیازی سلوک، تنہائی خاندانی مشکلات اور دیگر سماجی چیلنجز موجود ہیں کوئی معاشرہ کامل نہیں لیکن اگر ہم اپنے معاشرے کی اصلاح کیے بغیر دوسروں کی خامیوں کو اپنی گفتگو کا مستقل موضوع بنا لیں تو یہ تنقید اصلاح کا ذریعہ بننے کے بجائے خود فریبی میں تبدیل ہو سکتی ہے اگر ہم اپنے نوجوانوں کو بیرونِ ملک جانے سے روکنا چاہتے ہیں تو پہلے انہیں اپنے ملک میں باعزت روزگار فراہم کرنا ہوگا اگر ہم اپنے بچوں کو اپنی تہذیب اور ثقافت سے جوڑنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے تعلیمی اور سماجی اداروں کو ایسا ماحول دینا ہوگا جہاں وہ علم، کردار اور ترقی کے مواقع حاصل کر سکیں اگر ہم چاہتے ہیں کہ باصلاحیت لوگ اپنے ملک میں رہیں تو ان کی صلاحیتوں کی قدر کرنا ہوگی اگر ہم چاہتے ہیں کہ سرمایہ اپنے ملک میں لگے تو قانون کی حکمرانی معاشی استحکام اور سرمایہ کاری کا قابلِ اعتماد ماحول پیدا کرنا ہوگا کل۔اسلام آباد لائبہ نامی لڑکی کے ساتھ جو فراڈ ہوا اور اس نے خود کشی کی ہمارا نظام آخر اتنا گرا ہوا کیوں ہے ۔
محض تقریروں سے نوجوانوں کو نہیں روکا جا سکتا صرف نعروں سے ان کے مستقبل محفوظ نہیں ہوتے اور دوسروں کے معاشروں پر تنقید کرنے سے اپنا معاشرہ بہتر نہیں بن جاتاکسی نظریے کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ لوگ اسے چھوڑ کر جانے سے ڈریں بلکہ یہ ہے کہ لوگ اسے چھوڑ کر جانے کی ضرورت محسوس ہی نہ کریں وطن سے محبت کا بوجھ صرف غریب کیوں اٹھائے یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ اگر پاکستان ہم سب کا وطن ہے تو اس کے مسائل حل کرنے کی ذمہ داری بھی سب کی یکساں کیوں نہیں اگر معیشت مشکل میں ہے تو قربانی کا آغاز صرف تنخواہ دار طبقے سے کیوں ہو؟ اگر قومی خزانہ خالی ہے تو کفایت شعاری کا مطالبہ صرف عام شہری سے کیوں کیا جائے اگر قومی مفاد سب سے مقدم ہے تو حکمرانوں بااثر خاندانوں اور صاحبِ اختیار طبقات کے طرزِ زندگی کا احتساب کیوں نہ ہو حب الوطنی کا مطلب صرف قومی پرچم لہرانا قومی ترانہ پڑھنا یا نظریاتی تقریریں کرنا نہیں حب الوطنی کا ایک عملی مفہوم یہ بھی ہے کہ انسان اپنے اختیار کو عوام کی بہتری کے لیے استعمال کرے قومی وسائل کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال نہ کرے قانون کو اپنے ماتحت نہ بنائے اور اپنے بچوں کے لیے جو بہتر مستقبل چاہے، اس کے حصول کے مواقع دوسروں کے بچوں کے لیے بھی پیدا کرے وطن سے محبت کا دعویٰ کرنے والے ہر شخص کو اپنے کردار کا جائزہ لینا چاہیے سیاست دان ہو یا مذہبی رہنما سرکاری افسر ہو یا سرمایہ دار صحافی ہو یا دانش ور کسی کو محض اپنے منصب یا تقریر کی بنیاد پر حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ نہیں مل سکتا اصل سوال یہ نہیں کہ کون کتنا بلند آواز میں نظریے کا نام لیتا ہے اصل سوال یہ ہے کہ کون اس نظریے کی بنیادی اقدار یعنی انصاف، مساوات دیانت اور انسانی وقار کے لیے کتنا کام کرتا ہے اصل امتحان ریاست کا ہے۔
پاکستان کو ایک ایسی ریاست بننا ہوگا جہاں نظریہ شہری کے حقوق کی ضمانت بنے اس کی محرومیوں کو چھپانے کا پردہ نہ بنے جہاں مذہب اور تہذیب کا حوالہ دے کر طاقتور کے مفادات کا تحفظ نہ کیا جائے بلکہ کمزور کو انصاف فراہم کیا جائے جہاں عام شہری کو یہ محسوس ہو کہ یہ ملک صرف کسی مخصوص طبقے کی ملکیت نہیں، بلکہ اس کا اپنا گھر بھی ہے ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ کسی شخص کا بیرونِ ملک رہنا لازماً وطن سے بے وفائی نہیں بیرونِ ملک رہنے والے لاکھوں پاکستانی اپنے خاندانوں کی کفالت کرتے ہیں ترسیلاتِ زر بھیجتے ہیں، پاکستان کے لیے محنت کرتے ہیں اور مشکل وقت میں اپنے ہم وطنوں کے کام آتے ہیں ان کی حب الوطنی کو ان کے پتے یا رہائش کی بنیاد پر نہیں ان کے کردار اور عمل کی بنیاد پر پرکھنا چاہیے لیکن جو لوگ نظریے کو دوسروں پر نافذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں انہیں اپنے طرزِ عمل کا جواب بھی دینا چاہیے اگر وہ مغرب کو تہذیبی خطرہ سمجھتے ہیں تو انہیں یہ وضاحت کرنی چاہیے کہ اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے انہی معاشروں کا انتخاب کرتے وقت ان کے اصول کیسے بدل جاتے ہیں اور اگر وہ سمجھتے ہیں کہ بیرونِ ملک تعلیم، روزگار اور رہائش بہتر مواقع فراہم کرتے ہیں تو پھر انہیں اپنے ملک کے نوجوانوں کے لیے بھی ایسے مواقع پیدا کرنے کی فکر کرنی چاہیے یہ دوہرا معیار ہی اصل مسئلہ ہے نہ کہ کسی کا بیرونِ ملک جانا آخری سوال
پاکستان کے عام شہری کو نظریے سے اختلاف کا حق بھی حاصل ہونا چاہیے اور ریاست سے سوال کرنے کا حق بھی سوال کرنا دشمنی نہیں اصلاح کی پہلی سیڑھی ہے اپنے ملک کے مستقبل کے بارے میں سوال اٹھانا بے وفائی نہیں بلکہ اس مستقبل کو بہتر بنانے کی کوشش ہے لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ ہم حب الوطنی کو غریب کی مجبوری اور امیر کی تقریر سے الگ کرکے دیکھیں ہم نظریے کو محض جذباتی نعروں کے بجائے انصاف، مساوات اور عملی کردار کے پیمانے پر پرکھیں ہم یہ تسلیم کریں کہ وطن کسی ایک طبقے کی جاگیر نہیں اور نہ ہی اس کی نظریاتی ذمہ داریاں صرف ان لوگوں پر عائد ہوتی ہیں جن کے پاس اپنے مستقبل کے لیے دوسرے راستے موجود نہیں اگر یہ سرزمین واقعی ہم سب کی ہے تو اس کے خواب بھی سب کے ہونے چاہییں اس کے مواقع بھی سب کے لیے ہونے چاہییں اور اس کے تحفظ کی ذمہ داری بھی سب پر یکساں عائد ہونی چاہیے
آخر میں سوال وہی ہے جو ہر باشعور شہری کے ذہن میں اٹھنا چاہیے۔اگر اس نظریاتی سرزمین میں رہنا اتنا بڑا اعزاز ہے تو اس اعزاز کو قابلِ فخر بنانے کے لیے حکمرانوں اور اشرافیہ نے کیا کیا؟ اگر مغربی تہذیب ہماری شناخت کے لیے اتنا بڑا خطرہ ہے تو اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے اسی مغرب کا انتخاب کرنے والے ہمیں کس اصول کے تحت نصیحت کرتے ہیں اور اگر پاکستان واقعی ایک عظیم نظریے کی بنیاد پر قائم ہوا تھا تو اس نظریے کا سب سے پہلا حق دار وہ غریب شہری کیوں نہیں جس کے پاس نہ بیرونِ ملک جانے کے وسائل ہیں نہ اقتدار تک رسائی اور نہ اپنے بچوں کے لیے بہتر مستقبل خریدنے کی استطاعت؟
نظریہ اگر سب کے لیے ہے تو اصول بھی سب کے لیے ہونے چاہییں ورنہ خطرہ مغرب سے زیادہ اس سوچ سے ہے جو غریب کو قربانی کا سبق دیتی ہے اور طاقتور کو ہر اصول سے استثنا۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *