Banner
Daily Sahafat Quetta
September 29, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
افغان عبوری حکومت کو عسکریت پسندانہ ذہنیت سے نکل کر عوام کی بہتری کے لیے کام کرنا ہوگا، عطا اللہ تارڑسپریم لیڈر کا امریکا کو خطے سے نکالنے کا عزم، ٹرمپ کا ایران کو ‘نرمی دینے’ سے انکاربلوچستان کے نوجوان صوبے کا قیمتی اثاثہ ہیں، بلال خان کاکڑکیو ڈی پی کی تکمیل سے کوئٹہ میں ٹریفک اور انفراسٹرکچر کے مسائل حل ہوں گے، ذیشان لاشاریچمن میں قاضی عبدالسلام لائبریری فیز ٹو کا افتتاح، نوجوانوں کیلئے بڑی سہولت آگئیکوئٹہ میں جناح پیپلز میٹرو ٹرین کا افتتاح، بزرگوں اور خصوصی افراد کیلئے مفت سفر کا اعلانخواتین کیلئے محفوظ سفری سہولت، جناح پیپلز میٹرو ٹرین اہم پیش رفت ہے، ڈاکٹر ربابہ بلیدیبلوچستان نے میٹرو ٹرین سروس میں دیگر صوبوں پر سبقت لے لی، حنیف عباسیتاجر برادری کے مسائل کا حل حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، گورنر بلوچستانتاجروں کے جائز مسائل کے حل کیلئے کردار ادا کرتا رہوں گا، گورنر بلوچستانافغان عبوری حکومت کو عسکریت پسندانہ ذہنیت سے نکل کر عوام کی بہتری کے لیے کام کرنا ہوگا، عطا اللہ تارڑسپریم لیڈر کا امریکا کو خطے سے نکالنے کا عزم، ٹرمپ کا ایران کو ‘نرمی دینے’ سے انکاربلوچستان کے نوجوان صوبے کا قیمتی اثاثہ ہیں، بلال خان کاکڑکیو ڈی پی کی تکمیل سے کوئٹہ میں ٹریفک اور انفراسٹرکچر کے مسائل حل ہوں گے، ذیشان لاشاریچمن میں قاضی عبدالسلام لائبریری فیز ٹو کا افتتاح، نوجوانوں کیلئے بڑی سہولت آگئیکوئٹہ میں جناح پیپلز میٹرو ٹرین کا افتتاح، بزرگوں اور خصوصی افراد کیلئے مفت سفر کا اعلانخواتین کیلئے محفوظ سفری سہولت، جناح پیپلز میٹرو ٹرین اہم پیش رفت ہے، ڈاکٹر ربابہ بلیدیبلوچستان نے میٹرو ٹرین سروس میں دیگر صوبوں پر سبقت لے لی، حنیف عباسیتاجر برادری کے مسائل کا حل حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، گورنر بلوچستانتاجروں کے جائز مسائل کے حل کیلئے کردار ادا کرتا رہوں گا، گورنر بلوچستان

بچت سکیم BISP اور ہماری خواتین

تحریر یاسر دانیال صابری
آج دوپہر دو بجے میری ملاقات عالم تیموری اسسٹنٹ ڈائریکٹر تحصیل دنیور گلگت سے ہوئی جہاں پر بچت سکیم کے حوالے سے اس نے میرے معلومات اضافہ کیا ۔
پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں کم آمدنی والے خاندان روزمرہ ضروریات پوری کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد کرتے ہیں، وہاں صرف مالی امداد فراہم کرنا کافی نہیں بلکہ لوگوں میں بچت کی عادت پیدا کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ غریب اور مستحق خاندان کے لیے اگر ماہانہ آمدن محدود ہو تو گھر کا راشن، بچوں کی تعلیم، علاج معالجہ، بجلی کے بل اور دیگر ضروری اخراجات پورے کرتے ہوئے مستقبل کے لیے کچھ رقم بچانا بظاہر مشکل محسوس ہوتا ہے، لیکن حقیقت یہی ہے کہ چھوٹی چھوٹی بچتیں وقت کے ساتھ بڑا سہارا بن سکتی ہیں۔ اسی سوچ کے تحت تصاویر میں موجود معلومات کے مطابق BISP بچت اسکیم ایک ایسا پروگرام ہے جس میں مستحق خواتین اور خاندانوں کو اپنی آمدن میں سے باقاعدہ تھوڑی رقم بچانے کی ترغیب دی جاتی ہے اور اس کے ساتھ حکومتی معاونت بھی شامل کی جاتی ہے، تاکہ بچت کا یہ عمل محض ایک فرد کی کوشش نہ رہے بلکہ حکومت بھی اس عمل میں شریک ہو کر کم آمدنی والے خاندانوں کے مالی مستقبل کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کرے۔BISP سے مستفید ہونے والی خواتین یا اہل افراد اپنے موبائل والٹ یا اکاؤنٹ میں ہر ماہ 500 روپے یا 1000 روپے جمع کریں گے۔ اس طرح بظاہر ایک معمولی رقم سے بچت کا آغاز ہوگا، لیکن چند ماہ بعد یہی رقم ایک قابلِ ذکر مالی ذخیرے میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ اسکیم کی ایک اہم خصوصیت یہ بتائی گئی ہے کہ حکومت ہر تین ماہ بعد جمع شدہ بچت کا 40 فیصد اپنی طرف سے اکاؤنٹ میں جمع کرے گی، جس سے مستحق خاندان کی مجموعی بچت میں اضافہ ہوتا جائے گا۔یہ صرف پیسے جمع کرنے کی اسکیم نہیں بلکہ مالی نظم و ضبط پیدا کرنے کی ایک کوشش بھی ہے۔ ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ یہ سوچ کر بچت نہیں کرتے کہ ہمارے پاس بچانے کے لیے رقم ہی کہاں ہے، لیکن اگر ہر ماہ 500 روپے الگ رکھے جائیں تو سال کے اختتام پر یہی رقم 6000 روپے بنتی ہے، اور اگر 1000 روپے ماہانہ بچائے جائیں تو ایک سال میں 12 ہزار روپے جمع ہوسکتے ہیں۔ اس اسکیم میں حکومتی معاونت شامل ہونے کی وجہ سے یہ رقم مزید بڑھتی ہے۔
اس سکیم میں 500 روپے ماہانہ بچت ہر سہ ماہی یعنی تین ماہ میں مستحق فرد کی اپنی بچت 1500 روپے بنتی ہے، جبکہ BISP کی طرف سے 600 روپے ماہانہ معاونت کے حساب سے شامل کیے جاتے ہیں، یوں مجموعی رقم 2100 روپے بنتی ہے۔ اسی حساب سے دوسری سہ ماہی میں مجموعی رقم 4200، تیسری میں 6300، چوتھی میں 8400، پانچویں میں 10,500، چھٹی میں 12,600، ساتویں میں 14,700 اور آٹھویں سہ ماہی میں 16,800 روپے تک پہنچتی ہے۔ یعنی دو سال کے عرصے میں اپنی طرف سے ہر ماہ صرف 500 روپے بچانے والا فرد، بروشر میں دیے گئے حساب کے مطابق، حکومتی معاونت کے ساتھ 16,800 روپے کی مجموعی رقم تک پہنچ سکتا ہے۔ یہاں اصل اہمیت رقم کی مقدار سے زیادہ اس عادت کی ہے جو ایک خاندان کے اندر پیدا ہوتی ہے کہ آمدن میں سے کچھ حصہ مستقبل کے لیے محفوظ رکھا جائے۔
اسی طرح 1000 روپے ماہانہ بچت اسکیم میں تین ماہ کی اپنی بچت 3000 روپے بنتی ہے جبکہ BISP کی طرف سے 1200 روپے معاونت شامل ہونے پر مجموعی رقم 4200 روپے ہوجاتی ہے۔ جدول کے مطابق دوسری سہ ماہی میں یہ رقم 8400، تیسری میں 12,600، چوتھی میں 16,800، پانچویں میں 21 ہزار، چھٹی میں 25,200، ساتویں میں 29,400 اور آٹھویں سہ ماہی میں 33,600 روپے تک پہنچتی ہے۔ اس حساب سے دو سال تک 1000 روپے ماہانہ بچت کرنے والا مستحق فرد حکومتی معاونت کے ساتھ ایک قابلِ ذکر رقم جمع کرسکتا ہے۔ کسی غریب خاندان کے لیے یہ رقم بچوں کی فیس، تعلیمی اخراجات، علاج، گھر کی کسی فوری ضرورت یا کسی چھوٹے کاروباری قدم کے وقت مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ اس رقم کے استعمال کے بارے میں خاندان پہلے سے منصوبہ بندی کرے، کیونکہ بچت کا اصل مقصد صرف رقم جمع کرنا نہیں بلکہ اسے ضرورت کے وقت درست جگہ استعمال کرنا ہے۔ BISP سروے میں PMT اسکور 0 سے 40 کے درمیان رکھنے والے مستحق خاندان اس اسکیم کے لیے اہل قرار دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ مستفید ہونے والی خواتین یا افراد کے پاس اصل شناختی کارڈ ہونا ضروری بتایا گیا ہے، جبکہ BISP سے متعلق معلومات اور ریکارڈ کی تصدیق بھی اہم حصہ ہے۔ بروشر میں مخصوص اضلاع یا علاقوں کے رہائشی افراد کے حوالے سے بھی اہلیت کا ذکر موجود ہے، اس لیے ہر شخص کو اپنے علاقے میں اسکیم کی موجودہ دستیابی اور اپنی اہلیت کی تصدیق متعلقہ BISP دفتر یا مجاز نمائندے سے کرنی چاہیے۔ کسی بھی سرکاری اسکیم کی طرح یہاں بھی شہریوں کو غیر متعلقہ افراد کو ذاتی معلومات، شناختی کارڈ کی تفصیلات یا رقم دینے سے گریز کرنا چاہیے اور صرف سرکاری ذرائع سے تصدیق شدہ معلومات پر اعتماد کرنا چاہیے۔اس میں خواتین کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ پاکستان کے کم آمدنی والے خاندانوں میں خواتین اکثر گھر کے اخراجات کو محدود وسائل میں منظم کرتی ہیں، بچوں کی ضروریات کو ترجیح دیتی ہیں اور مشکل وقت میں گھر کو سنبھالتی ہیں۔ اگر ایسی خواتین کو بچت کا باقاعدہ موقع ملے اور ان کی معمولی بچت کے ساتھ حکومتی معاونت بھی شامل ہو تو یہ ان کے مالی اعتماد میں اضافہ کرسکتا ہے۔ تاہم کسی بھی بچت اسکیم کی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب اس کا طریقہ کار سادہ، شفاف، قابلِ رسائی اور عام آدمی کے لیے مکمل طور پر قابلِ فہم ہو۔ مستحق افراد کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ان کی اپنی رقم کتنی ہے، حکومتی معاونت کتنی ہے، رقم کب اور کیسے جمع ہوگی اور مستقبل میں اسے کس طریقے سے استعمال کیا جاسکے گا۔
غربت کے خاتمے کی جنگ صرف امداد سے نہیں جیتی جاسکتی؛ اس کے لیے بچت، تعلیم، ہنر، روزگار اور مالی منصوبہ بندی سب کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ اگر کسی خاندان کو ہر ماہ 500 روپے بچانے کی عادت پڑ جائے تو یہ عادت آنے والی نسلوں تک منتقل ہوسکتی ہے۔ایک ماہ میں 500 روپے جمع کروائیں تو تین ماہ میں 1500 بن جائے گے جس میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام 600 روپے دے گی اسطرح تین ماہ کا تین ہزار میں 1400 بڑھ جائیں گے سمپل طریقہ کار میں یہ کم یا زیادہ ہو سکتا کیونکہ 40% ابھی نہیں نکالا ہے یہ ایک مثال ہے ۔آج کی 500 روپے کی بچت کل کے مشکل وقت میں ایک بڑے سہارے میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ اسی طرح حکومت کی ذمہ داری صرف رقم فراہم کرنا نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا بھی ہے کہ مستحق شہریوں کو اسکیم کے بارے میں درست معلومات ملیں، ان کے ساتھ شفاف طریقے سے معاملہ ہو اور کسی قسم کی کٹوتی، جعل سازی یا دھوکے کی گنجائش نہ رہے۔
BISP: غریب آدمی کے لیے بھی بچت ممکن ہے، بشرطیکہ اسے مناسب موقع، اعتماد اور نظام کی سہولت میسر ہو۔ 500 یا 1000 روپے بظاہر معمولی رقم ہے، مگر مسلسل بچت، حکومتی معاونت اور مالی نظم و ضبط کے ساتھ یہی رقم ایک خاندان کے لیے مستقبل کا سہارا بن سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس طرح کے پروگراموں کو صرف امدادی اسکیم سمجھنے کے بجائے مالی خودمختاری اور بچت کی ثقافت پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جائے۔ اگر ایک مستحق خاتون آج اپنی آمدن میں سے چند سو روپے مستقبل کے لیے محفوظ کرنا سیکھ لیتی ہے تو یہ صرف اس کے اکاؤنٹ میں رقم کا اضافہ نہیں، بلکہ اس کے خاندان کے مالی شعور میں ایک نئے باب کا آغاز بھی ہے۔ یہی چھوٹی چھوٹی عادتیں کل بڑے معاشی فیصلوں کی بنیاد بنتی ہیں۔
اس اسکیم کے دیگر فوائد میں بچوں کی تعلیم، علاج معالجہ، ہنگامی اخراجات، گھر کی ضروریات، چھوٹے کاروبار کے لیے سرمایہ اور قرض پر انحصار میں کمی شامل ہوسکتی ہے۔ اس سے خواتین میں مالی شعور اور خود اعتمادی بڑھے گی، جبکہ بچوں میں بھی بچت اور مستقبل کی منصوبہ بندی کی عادت پیدا ہوگی۔ یوں معمولی بچت بھی مشکل وقت میں خاندان کے لیے ایک مضبوط سہارا بن سکتی ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *