Banner
Daily Sahafat Quetta
September 27, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
بجلی صارفین کیلئے بڑی خبر، 2 گھنٹے سے زائد لوڈشیڈنگ پر پابندیخواتین کی بڑی مشکل آسان! نادرا کی خصوصی نرمی، بغیر برتھ سرٹیفکیٹ شناختی کارڈ حاصل کرنے کا سنہری موقعملک میر وائس خان کاسی کے انتقال پر سردار منظور احمد کاکڑ کا گہرے رنج و غم کا اظہارپاکستان کے مستقبل میں نئے صوبوں کا کردارمصلحِ امت و مبلغِ اسلام مولانا محمد حنیفؒ شہیدشہیدِ اسلام مولانا محمد حنیفؒ جوانی سے قربانی تکشہید اسلام کا آخری سفر اور ایک نڈر ترجمان کی خاموش داستانواشک میں سڑک کنارے سے لاش برآمد، شناخت ہوگئینصیرآباد میں فائرنگ، 2 افراد جاں بحق، ایک زخمیسربراہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان علامہ آغا حسین مقدسی کا ڈیرہ اسماعیل خان درازندہ دہشتگرد حملے کی پُرزور مذمتبجلی صارفین کیلئے بڑی خبر، 2 گھنٹے سے زائد لوڈشیڈنگ پر پابندیخواتین کی بڑی مشکل آسان! نادرا کی خصوصی نرمی، بغیر برتھ سرٹیفکیٹ شناختی کارڈ حاصل کرنے کا سنہری موقعملک میر وائس خان کاسی کے انتقال پر سردار منظور احمد کاکڑ کا گہرے رنج و غم کا اظہارپاکستان کے مستقبل میں نئے صوبوں کا کردارمصلحِ امت و مبلغِ اسلام مولانا محمد حنیفؒ شہیدشہیدِ اسلام مولانا محمد حنیفؒ جوانی سے قربانی تکشہید اسلام کا آخری سفر اور ایک نڈر ترجمان کی خاموش داستانواشک میں سڑک کنارے سے لاش برآمد، شناخت ہوگئینصیرآباد میں فائرنگ، 2 افراد جاں بحق، ایک زخمیسربراہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان علامہ آغا حسین مقدسی کا ڈیرہ اسماعیل خان درازندہ دہشتگرد حملے کی پُرزور مذمت

شہید اسلام کا آخری سفر اور ایک نڈر ترجمان کی خاموش داستان

صحافت نامہ
شہید اسلام کا آخری سفر اور ایک نڈر ترجمان کی خاموش داستان

چمن( رنزوریار سے)شہید اسلام حضرت مولانا محمد حنیفؒ ایک عام عالم نہیں بلکہ ایک عہد، ایک تحریک اور ایک مزاج کا نام تھے۔ وہ جمعیت علماء اسلام پاکستان کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری کے منصب پر فائز ہونے کے ساتھ ساتھ بلوچستان کی سطح پر ایک نڈر قبائلی رہنما، ممتاز عالم دین اور حضرت مولانا فضل الرحمن کے دست راست شمار ہوتے تھے۔ ان کی شخصیت بیک وقت علم، قبائلی وقار، سیاسی بصیرت اور جہادی مزاج کا حسین امتزاج تھی۔ وہ انتہائی ملنسار، سادہ مزاج، دین شریعت کے سچے داعی، مظلوموں کے بے خوف ترجمان اور باطل کے سامنے ڈٹ جانے والے مجاہد مزاج جامع شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی زبان میں نرمی تھی مگر موقف میں فولاد جیسی سختی تھی۔ وہ چمن کی مٹی سے جڑے ہوئے تھے مگر ان کی سوچ پورے ملک کے مظلوم مسلمانوں کے لیے تھی۔ جمعیت علماء اسلام کے کارکنان کے لیے وہ ایک شفیق مربی، بلوچستان کے قبائل کے لیے ایک ثالث اور دین کے طلباء کے لیے ایک مہربان استاد تھے۔28 ستمبر 2019 کا دن چمن کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا۔ حسب معمول وہ شہر کے وسط تاج روڈ سے گھر جا رہے تھے، نہ کوئی پروٹوکول، نہ کوئی حفاظتی حصار، وہی سادگی، وہی عوامی انداز۔ اسی راستے پر دشمن نے گھات لگا رکھی تھی۔ ایک زوردار بم دھماکے نے اس چراغ کو بجھا دیا جو برسوں سے حق کی روشنی پھیلا رہا تھا۔ تاج روڈ کا وہ موڑ آج بھی گواہ ہے کہ کیسے ایک شخص نے اپنے خون سے دین اور جمہوریت دونوں کی آبیاری کی۔ ان کی شہادت نے ثابت کر دیا کہ جو قائد عوام میں رہتا ہے وہی عوام کے دل میں زندہ رہتا ہے۔ آج بھی چمن کی ہوائیں ان کی مسکراہٹ، ان کی ملنساری اور ان کے نڈر خطبات کو یاد کرتی ہیں۔ شہید مولانا محمد حنیفؒ کا جنازہ صرف ایک جنازہ نہیں بلکہ بلوچستان کے غیرت مند قبائل، علماء اور مظلوموں کا ایک عظیم الشان اجتماع تھا۔ وہ شہید ہوئے مگر اپنا مشن زندہ چھوڑ گئے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *